اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ شام کی آرمی اور مسلح افواج کے چیف کمانڈر نے ایک بیانہ صادر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس جارح اتحاد نے آج ہفتہ کی صبح 3 بج کر 55 منٹ پر شام پر حملہ کیا ہے اور 120 سے زیادہ میزائل دمشق کے اندر اور باہر فائر کئے ہیں۔ سانا نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق شام کے آرمی ہیڈکوارٹر کے بیان میں آیا ہے کہ ہمارے فضائی دفاعی نظام نے اعلٰی صلاحیتوں اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جارحین کے اکثر میزائلوں کو ٹریس کرکے تباہ کر دیا ہے۔ اگرچہ ان میں سے کچھ میزائل بررزہ کے ایک ریسرچ سینٹر کی عمارت کہ جس میں ایک تربیتی مرکز اور ایک لیبارٹری شامل ہے، پر لگے ہیں، لیکن ان میزائلوں سے صرف مالی نقصان ہوا ہے۔ ان میں سے کئی میزائل کو ٹریس کیا گیا کہ جو اپنے ہدف سے ہٹ کر حمص کے نزدیک ایک فوجی ٹھکانے کے قریب لگے ہیں۔ ان میں سے ایک میزائل کے پھٹنے سے تین عام شہری زخمی ہوگئے ہیں۔ شامی فوج کے ہیڈکوارٹر سے جاری ہونے والے بیانئے میں ملک کے دفاع اور اپنے شہریوں کی حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس طرح کی جارحیت فوج اور عوامی رضاکار فورسز کو پورے شام میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف لڑائی جاری رکھنے سے نہیں روک سکتی اور یہ جارحیت صرف ہمارے عزم کو اپنے اقتدار و سالمیت ارضی کے دفاع اور اپنے ملک اور شہریوں کی حفاظت کے لئے پہلے سے زیادہ مضبوط کرے گی۔
تبصرہ
بہت سے تجزیہ کار حالات و واقعات اور ٹرمپ کی دھمکیوں کو صرف نفسیاتی جنگ کے طور پر لے رہے تھے اور اس حملے کی توقع نہیں کرتے تھے۔ البتہ کچھ ماہرین نے ٹرمپ اور بن سلمان کی وحشیانہ اور احمقانہ حرکتوں کا درست تجزیہ کرتے ہوئے اس وقت بہترین حکمت عملی اختیار کی اور احتمالی اہداف کو خالی کروانے کا مشورہ دیا، یہی وجہ ہے کہ حملے کے وقت وہ مقام خالی تھے، جس کی وجہ سے شام ایک بڑے نقصان سے محفوظ رہا۔ امریکہ فرانس اور برطانیہ نے جن مقامات کو نشانہ بنایا ان میں سے چند اہم مقامات یہ ہیں:
1۔ صدارتی گارڈ کی عمارت بریگیڈ 105 دمشق
2۔ فضائی دفاعی نظام جبل قاسيون دمشق
3۔ فوجی ہوائی اڈہ المزہ
4۔ فوجی ہوائی اڈہ الضمیر
5۔ ریسرچ اکیڈمی برزہ دمشق
6۔ ریسرچ اکیڈمی جمرايا دمشق
7۔ سپیشل فورسز بریگیڈ 41 کی عمارت دمشق
8۔ آرمی چھاونی الرحيبه القلمون دمشق
9۔ آرمی چھاونی الكسوه دمشق
۔۔۔۔۔۔۔
/169